دہرادون ، ۔ پولیس اور آر ٹی او ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے اتراکھنڈ روڈ ویز کو روزانہ لاکھوں کے ریونیو کے نقصان کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود متعلقہ محکمہ کے افسران پروا نہیں کرتے۔ یہ معاملہ دارالحکومت سے صرف چار کلومیٹر دور ہراوالا کا ہے۔
یوپی بس مافیا کا ایک گینگ یہاں کافی عرصے سے سرگرم ہے۔ اس گروہ نے آئی اے ایس بس سروس کے نام پر مختلف ریاستوں کے لیے غیر قانونی طور پر بسیں چلائی ہیں۔ کورونا دور میں بھی محکمہ ٹرانسپورٹ ان بسوں کی نقل و حرکت کو نہیں روک سکا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر قانونی بس آپریٹرز کے تار اوپر سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ کی بسیں ہرروالہ اور میانوالہ سے دہلی ، ہردوئی اور دیگر مقامات پر غیر قانونی طور پر مسافروں کو آپریٹ کرکے منتقل کی جارہی ہیں۔ مسافروں سے من مانی کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پولیس اور متعلقہ محکمہ ان غیر قانونی بس آپریٹرز کی شرارتوں سے آگاہ نہیں ہے۔ وہ چاندی کے سکوں کی گھنٹی کے آگے بھی جھکتا ہے۔ ہرولا کی سابقہ علاقہ پنچایت ممبر ولیمش دیوی اور وارڈ کونسلر ونود کمار نے اس سلسلے میں بہت پہلے آر ٹی او اور پولیس کو شکایتی خط دیا تھا ، لیکن ان کی شکایت کو کوڑے دان میں ڈال دیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ غیر قانونی بسیں ہروالا پولیس چوکی کی ناک کے نیچے سے گزرتی ہیں مگر پولیس خاموش ہے۔ یہ بات مشہور ہے کہ اتراکھنڈ روڈ ویز مسلسل خسارے میں چل رہی ہے۔ ملازمین کو تنخواہیں دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھنے کا پابند ہے کہ کن افسران کے کہنے پر ان غیر قانونی بسوں کو چلا کر حکومت کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ یش پال آریہ روڈ ویز کے نقصانات سے چھٹکارا پانے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کے ماتحت افسران یوپی کی غیر قانونی بسوں پر لگام لگانے پر مجبور ہیں۔







Copyright © 2026 Jokhim Urdu. Designed & Developed by Digital Clik

COMMENTS